بے وفائ

عورتیں اپنی آنکھوں پر صرف وہی چشمہ لگانا پسند کرتی ہیں جس میں سے انکا مرد انہیں ویسا ہی دکھے جیسا وہ دیکھنا پسند کرتی ہیں اور بہت سارے معاملوں میں مضبوط اور عقل و فہم رکھنے والی عورتیں اپنے مرد کے سامنے کمزور اور بےبس نظر آتی ہیں وہ ایسی اس وجہ سے ہوتی ہیں کیونکہ وہ اپنے مرد سے بے حد محبت کرتی ہیں اور انہیں بھی اپنے ساتھی سے اسی محبت،توجہ اور احساس کی ہمیشہ خواہش رہتی ہے اور اکثر مرد اپنی بیوی یا ساتھی کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان پر اندھا اعتماد کرنے والی عورتوں کے پاس سوائے رونے اور پچھتانے کے کچھ نہیں رہتا ایسا ہی شوہر کی محبت میں گرفتار ایک عورت کے ساتھ ہوا جو ایک فرم میں ایک اچھے عہدے پر فائز تھی بلکہ اسکی اسکے شوہر سے پسند کی شادی ہوئ تھی اور اب وہ دو بچوں کی ماں اور ملازمت پپیشہ سمجھدار عورت تھی اور اسکے شوہر بھی ایک فرم میں اعلی عہدے پر فائز تھے
سنیں احسن آپکا لنچ پیک کردیا ہے اور تم دونوں کا بھی عصمی نے سنی اور ہنی اپنے دونوں بچوں کو آگاہ کیا اور اپنے بچوں کو اسکول وین میں بٹھا کر خود بھی اپنے آفس کیلئے نکل گئ عورت ہونے کے ناطے اسے گھر کی ذمے داریاں بھی انجام دینی تھیں اور ملازمت پیشہ ہونے کی وجہ سے آفس کی بھی سارے کاموں سے فارغ ہوکر جب وہ سونے کیلئے لیٹی تو سوچنے لگی اسکے سارے خواب پورے ہورہے ہیں پیار کرنے والا شوہر پیارے پیارے بچے بیٹا بھی بیٹی بھی چھوٹا سا گھر اللہ کا شکر ہے کسی کی کبھی نظر نہ لگے میرے آشیانے کو اور شکر ادا کر کے وہ سوگئ آدھی رات ہوئ ہوگی شاید اچانک احسن کے اٹھانے پر وہ چونک کر اٹھ گئ عصمی، عصمی اٹھو ہممم جی کیا ہوا وہ سنو مجھے تم سے بات کرنی تھی ارے اتنی رات کو صبح کرلیں گے نہیں دیکھو بچے سورہے ہیں ابھی کرنی ہے اچھا اور وہ چشمہ لگاتے ہوئے سیدھی ہوکر بیٹھ گئ جو کہ اسکی عادت تھی جی بولیں کیا ہوا سب خیریت ہے آفس میں کوئ مسئلہ یا امی کی کوئ بات ارے نہیں وہ بات دراصل یہ ہے کہ کئ دنوں سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں تم سے اب میں تم سے چھپا نہیں سکتا ارے خیریت طبیعت ٹھیک ہے ہاں ہاں ٹھیک ہے وہ بات یہ ہے کہ ہمت اور حوصلے سے سننا میں نے عاشی سے دوسری شادی کرلی ہے اور یہ سب اچانک ہی ہوا وہ میرے آفس میں جاب کرتی تھی اور اس سے دوستی محبت میں تبدیل ہوگئ اور پھر اسکے زیادہ اسرار پر ایک ہفتہ پہلے اس سے نکاح کرلیا دل کے ہاتھوں مجبور ہوگیا اس سب سے تمھارے اور میرے رشتے میں کوئ فرق نہیں آئے گا تم میری پہلی بیوی ہو اور شرعی لحاظ سے شرعی شرعی کیا عصمی کی آواز یک دم کمرے میں گونجی یہ سب کیا بولے جارہے مزاق کررہے کیا وہ رورہی تھی اور پوچھ رہی تھی محبت کسی اور سے اور مجھ سے جو کی تھی وہ وہ کیا تھا وہ جو وعدے محبت کے دعوے شادی بچے اور ہماری محبت وہ ختم ہوگئ کیا کسی اور کی محبت وہ کیسے بیچ میں آگئ میری بات تو سنو بات کیا بات اور وہ اٹھ کر بچوں کے کمرے میں چلی گئ عصمی عصمی۔۔۔۔۔۔
اگلے دن جب صبح ہوئ تو احسن گھڑی دیکھکر حیران رہ گیا دس بج کئے کسی نے اٹھایا نہیں وہ کمرے سے باہر نکلا اور سنی اور ہنی کو آواز دی اور جواب میں دونوں کی آواز نہیں آئ گھر میں کوئ موجود نہیں تھا کچن میں موجود فرج کے دروازے پہ ایک خط جیسا چپساں تھا
“جناب احسن صاحب کل رات کی آپکی باتیں سننے کے بعد مجھے احساس ہوگیا ہے کہ اب وہ پیار اور احساس نہیں رہا ہے جس کی بنا پر ہم ایک بندھن میں بندھے تھے اور آپکی زندگی میی کوئ اور آچکا ہے میں آپکے ساتھ اسطرح نہ رہ پائونگی کسی اور کا احساس بھی جان لیوا لگتا یے ابھی میں گھر سے جارہی ہوں کیونکہ میرا دم گھٹ رہا ہے لیکن یہ گھر میرا ہے اسلئے آپ یہ گھر چھوڑ کر چلے جائیں اور اس بات کو بہت سیریس لیجئے گا کیونکہ اگر ایسا نہیں کیا تو اگلا نوٹس وکیل کا آئے گا آج میری سالگرہ پہ آپکا یہ تحفہ کبھی بھول نہ پائونگی جلد ہی میری طرف سے خلع کا نوٹس موصول ہو جائے گا اللہ حافظ ” احسن نے پورا خط پڑھا اپنا سامان باندھا اور گھر کو باہر سے تالا ڈالا اور چابی پڑوسن کو دی اور نکل گیا اسے اندازہ تھا اس سب کا لیکن اس حد تک وہ جانتا تھا کہ عصمی اسے بہت محبت کرتی ہے اور وہ اسے قائل کرلے گا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ جو عورت اس سے اتنی محبت کرتی ہے اسے ایک منٹ میں دل سے نکال دے گی اور وہ اسے کسی بھی بات سے قائل نہیں کرپائے گا اور وہ یہ بھول گیا کہ اس نے اپنی محبت جو اسے اپنی بیوی عصمی سے تھی خود ہی تو بانٹی تھی اور اب کیا ہوسکتا تھا

گلابوں کے کئے وعدے ہمیں کانٹے ملے تم سے

خزاں سونپی بہاروں میں ہمیں ہیں یہ گلے تم سے

محبت تھی محبت ہے مگر لیکن ہمیں ہی ہے

تمھاری چاہ بدلی ہے ملے ہیں یہ صلے تم سے

ہماری ہر دعا میں تم تمھیں ہر بات میں شامل

ہمیں  پھر بھی بھلا بیٹھے کریں اب کیا گلے تم سے

لکھاری و شاعرہ

حمیرا قریشی